زبردستی کی شادی کیا ہے؟

زبردستی کی شادی کیا ہے؟

اگر آپ کی شادی زبردستی کی گئی ہے یا آپ کو یہ فکر ہے کہ آپ کی زبردستی شادی ہونے والی ہے تو یہ جان لیں کہ مدد دستیاب ہے اور آپ تنہا نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ اور بے یقینی کا شکار ہوں۔ ممکن ہے اپنے جذبات اور فرائض کے بارے میں آپ کی سوچیں منتشر ہوں اور آپ نہ جانتے ہوں کہ آگے کیا کرنا چاہیئے۔ آپ اس صفحے پر دیے گئے نمبروں میں سے کسی نمبر پر رابطہ کر کے مدد اور سہارا حاصل کر سکتے ہیں۔

زبردستی کی شادی یہ ہے کہ ایک شخص کی شادی اس کی آزادانہ اور مکمل رضامندی کے بغیر ہو ۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ شادی کی تقریب کی نوعیت اور معنی کو نہیں سمجھتا یا اسے مجبور کیا گیا ہے، دھمکایا گيا ہے یا دھوکہ دیا گیا ہے، گھر والوں کی طرف سے جذباتی دباؤ، جسمانی نقصان کی دھمکیاں دی گئی ہیں یا واقعتا” جسمانی نقصان پہنچایا جاۓ۔ اگر ایک شخص کی عمر شادی کے وقت16 سال سے کم ہو تو بالعموم اسے شادی کیلئے آزادانہ اور مکمل رضامندی دینے کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ اس قسم کی شادی سے افراد اور گھرانوں پر دیرپا منفی اثرات پڑ سکتے ہیں اور یہ آسٹریلیا کے قانون کے خلاف ہے۔


آسٹریلیا کے قانون کے بارے میں مزید معلومات کیلئے یہاں کلک کریں

مارچ 2013 میں ایک قانون عمل میں آیا تھا جس نے آسٹریلیا میں زبردستی کی شادی کو غیرقانونی قرار دیا ۔ کسی شخص کی زبردستی شادی کروانا یا زبردستی کی شادی میں فریق بننا (سواۓ اس کے کہ آپ کی زبردستی شادی کروائی جا رہی ہو) ایک جرم ہے۔ یہ قانون کامن ویلتھ کریمنل کوڈ ایکٹ 1995 کی ڈویژن270 میں شامل ہے۔ ان جرائم کی زیادہ سے زیادہ سزا 7 سال جیل ہے یا سنگین جرم کی صورت میں، جس میں 18 سال سے کم عمر کے کسی شخص کی زبردستی شادی یا کسی معذور شخص کی زبردستی شادی کا معاملہ ہو، زیادہ سے زیادہ سزا 9 جیل ہے۔ اکر کوئی شخص 18 سال سے کم عمر کے بچے کو آسٹریلیا سے باہر لے جا کر اس کی شادی کروانے میں مدد کرے تو اسے25 سال تک جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔


اگر آپ کی زبردستی شادی ہوئی ہے

۔ ۔ ۔ یا آپ کو فکر ہے کہ آپ کی زبردستی شادی ہونے والی ہے، یہ ذہن میں رکھیں کہ مدد دستیاب ہے اور آپ تنہا نہیں ہیں۔ ممکن ہے آپ اپنے مستقبل کے حوالے سے خوفزدہ اور بے یقینی کا شکار ہوں۔ ممکن ہے اپنے جذبات اور فرائض کے بارے میں آپ کی سوچیں منتشر ہوں اور آپ نہ جانتے ہوں کہ آگے کیا کرنا چاہیئے۔ آپ اس صفحے پر دیے گئے نمبروں میں سے کسی نمبر پر فون کر کے کچھ مدد اور سہارا حاصل کر سکتے ہیں۔

زبردستی کی شادی کی مثالیں

”ایک 17 سالہ لڑکی کا ایک بواۓ فرینڈ ہے لیکن اس کے ماں باپ نے کہا ہے کہ وہ بواۓ فرینڈ سے ملنا چھوڑ دے اور کسی اور سے شادی کرے۔ اسے بتایا گیا ہے کہ اگر اس نے دوسرے آدمی سے شادی نہ کی تو اسے نقصان پہنچے گا۔ اگر وہ لڑکی نقصان پہنچاۓ جانے کے ڈر سے یہ شادی کر لے تو یہ زبردستی کی شادی ہے۔“

زبردستی کی شادی کی مثالیں

”ایک 15 سالہ لڑکی کو بتایا گیا ہے کہ سکول کی چھٹیوں میں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ہالی ڈے پر جاۓ گی۔ جب وہ اور اس کے گھر والے دوسرے ملک میں پہنچتے ہیں تو اسے بتایا جاتا ہے کہ اسے اپنے کزن سے شادی کرنی ہو گی۔ اسے بتایا گیا ہے کہ اگر وہ شادی کیلئے نہ مانی تو اسے کبھی آسٹریلیا واپس نہیں جانے دیا جاۓ گا۔ اگر یہ شادی ہو جاتی ہے تو یہ زبردستی کی شادی ہے۔“

زبردستی کی شادی کی مثالیں

”ایک 19 سالہ لڑکا اپنے گھر والوں کو بتاتا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہے۔ چند ہفتے بعد اس کے گھر والے اسے بتاتے ہیں کہ اسے اپنی کمیونٹی کی ایک لڑکی سے شادی کرنی ہو گی جسے وہ کئی سال سے جانتا ہے۔ یہ شادی ہو جاتی ہے کیونکہ لڑکے کو کہا گيا ہے کہ اگر اس نے یہ شادی نہ کی تو خاندان کی ایسی ناک کٹے گی کہ اس کی دادی کو دل کا دورہ پڑ جاۓ گا۔ یہ زبردستی کی شادی ہے۔“

ارینجڈ شادی کیا ہے؟

کچھ گھرانوں میں شادیاں ارینجڈ یعنی بڑوں کی طے کردہ ہوتی ہیں۔ کوئی رشتہ دار یا دوسرا شخص لڑکے لڑکی کا ایک دوسرے سے تعارف کرواتا ہے۔ ہر شخص آزادی سے چن سکتا ہے کہ وہ شادی کرے گا یا نہیں اور اس کے گھر والے اس کا فیصلہ مانتے ہیں، بغیر اس کے کہ اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔ آسٹریلیا میں 18 سال سے اوپر عمر کے لوگوں کی ارینجڈ شادی قانونی ہے کیونکہ لڑکا لڑکی صرف تبھی شادی کرتے ہیں کہ ان دونوں نے آزادانہ طور پر ایک دوسرے سے شادی کا فیصلہ کیا ہو۔

چاہے لڑکا لڑکی پہلے شادی کیلئے رضامندی دے چکے ہوں، اریجنڈ شادی بھی اس صورت میں زبردستی کی شادی بن سکتی ہے کہ دونوں میں سے ایک، یا دونوں کو، شادی کیلئے ہاں کرنے کیلئے دھمکایا جاۓ، چکر دیا جاۓ، یا دباؤ ڈالا جاۓ۔ ممکن ہے ایک شخص بے بس محسوس کرتے ہوۓ شادی سے انکار نہ کر پاۓ۔ اس وقت، شادی کیلئے ان دونوں کی جانب سے مکمل اور آزادانہ مرضی نہیں ہوتی اور یہ شادی زبردستی کی شادی بن جاتی ہے۔

اریجنڈ شادی کی مثال کیلئے یہاں کلک کریں

ایک 19سالہ شخص کو ایک رشتہ دار، دوست یا کوئی تیسرا فریق ایک رشتے کے بارے میں بتاتا ہے۔ شادی کیلئے ‘ہاں’ یا ‘نہ’ کہنا اس شخص کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ شادی کیلئے ‘نہ’ کہنے کا فیصلہ کرے تو شادی نہیں ہو گی۔ اگر وہ شادی کیلئے اپنی مکمل اور آزادانہ مرضی سے ‘ہاں’ کہنے کا فیصلہ کرے تو شادی ہو جاۓ گی۔ مکمل اور آزادانہ مرضی کا مطلب ہے کہ کوئی دھمکیاں نہیں دی گئی تھیں، نہ کوئی چکر چلایا گیا تھا اور نہ ہی اس پر شادی کیلئے ہاں کرنے کا دباؤ تھا۔

Banner

کمپیوٹر اور فون پر حفاظت

یہ یقینی بنائیں کہ آپ محفوظ جگہ پر محفوظ فون یا کمپیوٹر استعمال کریں تاکہ کوئی آپ کا پیچھا نہ کر سکتا ہو نہ آپ کا سراغ لگا سکتا ہو۔ اگر آپ کو اپنی حفاظت کے بارے میں فکر ہو، آپ کسی دوست کا موبائل فون یا کسی پبلک لائبریری یا کمیونٹی سنٹر کا کمپیوٹر استعمال کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کو فورا” اس ویب سائیٹ سے ہٹنا پڑے تو “exit website” بٹن پر کلک کریں جو پیج کے اوپری دائیں کونے میں ہے۔ اس طرح آپ سیدھے خالی گوگل سرچ پیج پر چلے جائیں گے لیکن آپ کی براؤزر ہسٹری سے یہ ویب سائیٹ غائب نہیں ہو گا۔

Locker Room

The Locker Room

Close